Beginning of Jafar Magholi and Hasan Toofan

Articles

جعفری مغولی اور حسن طوفان کی شروعات

بختیار علی

میرا نام حسن طوفان ہے۔ میری اور جعفری مغولی کی پرورش پارٹی کے خیالات کے درمیان ہی ہوئی۔ جس دن ہمیں میموستا شآبوین نے بلوایا اور یہ خوشخبری دی کہ ہم دونوں کو قتل و غارت گری کرنے والے خفیہ محکمے کی ذمہّ داریاں دی جاری ہیں، ہم خلائوں میں اڑنے لگے۔ اگر میری یاداشت دھوکہ نہیں دے رہی ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مغولی مجھ سے کئی گنا زیادہ خوش تھا۔ جب ہم میموستا کی دریائی گھوڑے جیسی مونچھ اور وحشی نظروں کے سامنے کھڑے تھے تب مغولی اپنے پتلے ہونٹ اور چوڑی ناک لیے کسی مجسّمے کی طرح اس قدر خاموش تھا جیسے وہ اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہو۔ اُس کا گندہ شطرنجی مفلر اُس کی گردن کے اطراف لپٹا ہوا تھا۔ اُس کے ظاہری خد وخال دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی چوہا غیر فطری طورپر بہت زیادہ بڑا ہو گیا ہواور دو پیروں پر کھڑا ہو۔وہ بے انتہا خوش تھا یوں لگتا تھا گویا اُسے شاہِ روم کا تاج پہنا دیا گیا ہو۔
جعفری مغولی کہا کرتا تھا کہ وہ قتل کرنے کے لیے ہی پیدا ہوا ہے۔اُسے یقین تھا کہ قتل و غارت گری والے شعبے میں ہمارا داخلہ ہمیں اعلیٰ عہدوںتک لے جائے گا۔ اُس نے تب سوچا اور وہ اب بھی سوچتا ہے کہ وہ لوگ جو قتل و غارت گری میں ماہر و مشاق نہیں ہوتے اور جو اپنی راہوں کی رکاوٹیں پھلانگ کر آگے نہ بڑھ پائیں انھیں مخروطی مینار کے نیچے اُس وقت تک کھڑا ہونا پڑتا ہے جب تک وہ سڑ کر مر نہ جائیں۔ ہم کند ذہن لوگ تھے، ہمارے اور اُن ذہین لوگوں کے درمیان کوئی بھی قدر مشترک نہیں تھی جنھوں نے پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اعلیٰ عہدوں تک ترقی حاصل کی تھی اور طاقتور ترین شخصیت کا روپ دھار لیا تھا۔ ہمارے پاس ہماری بیوقوفی اور بندوق کے علاوہ کوئی سرمایہ نہیں تھا۔ دو بے قیمت سرمائے جنھیں شاذونادر ہی اہمیت دی جاتی ہوگی۔ میں نے ہمیشہ یہ خیال کیا تھا کہ کوئی بیوقوف جس کے ہاتھ میں بندوق ہو وہ بھی ترقی کرتا ہوا اِس ملک کا صدر بن سکتا ہے اور میں اکثر و بیشتر ہی اپنے اِس خیال پر کھرا اترا ہوں۔
مغولی اور میں دونوں ہی بیوقوف تھے لیکن ہم جانتے تھے کہ ہماری بیوقوفی کا ہمیں کس طرح فائدہ اٹھانا ہے۔ ایک مقامی شخص سے ایک بھیڑ کے بچّے پر بحث و تکرار کرتے ہوئے ہم دونوں دوست بن گئے تھے۔ اُس شخص کی کئی خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ہم دونوں بھی نوجوان تھے۔ ہم دونوں بھی وہاں اُس شخص کی شوخ وچنچل لڑکیوں کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ جب ہم دونوں کو پتہ چلا کہ وہاں جانے کا ہمارا مقصد ایک ہی تھاتب بالکل دو، رازداروں کی طرح ہم دوست بن گئے۔
ہمارے تعلقات کافی پرانے ہیں ۔جن دنوں ہم قتل وغارت گری والے شعبے میں کام کرتے تھے، اُس شعبے کا نام کرد زبان میں ’’قتل غارت گری ‘‘والا شعبہ میں نے خود رکھا تھا۔ جبکہ جعفری مغولی اِس شعبے کو وحشیانہ انداز میں Finishing off Sports Clubکہا کرتا تھا۔ جب ہم پارٹی کیڈر صابر ترانو کے پاس بطور نوآموز رضاکار کام کیا کرتے تھے۔ وہ خفیہ جدو جہد کرنے والا ایک لیڈر اور اسّی کی دہائی کا باضابطہ سیاستداں تھا۔ اُس نے اپنے ہم خیال لوگوں کا ایک گروپ بنایا ہوا تھا۔ مجھے یہ کہنے دیجیے کہ وہ اپنے وقت کے انقلابی تشدد کاموجد تھا۔ ایک ایسا وقت یا دور جسے میں سیاہ دور کہتا ہوں مگر میرے ساتھی اُسی دور کو زندگی سے بھرپور دور کہتے ہیں۔ اُس زمانے میں قتل و غارت گری کے لیے بہت سارے گروہ سرگرم تھے مگر اُس کے گروہ کی طرح عقلیت پسند کوئی گروہ نہیں تھا۔
ترانو ایک کمزور شخص تھا جو عینک لگایا کرتا تھا جس کے چہرے پر جھرّیاں تھیں۔ اُس نے اپنی زندگی میں نہ کبھی کسی چیونٹی کو مارا تھا اور نہ کبھی کسی مرغ کا قتل کیا تھا۔ لیکن وہ اپنے آپ کو انقلاب کا نظریہ ساز کہا کرتا تھا۔ اس کی زیادہ تر باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ مجھے اُس کی یہ بات یاد ہے، وہ کہا کرتا تھا کہ ہماری یہ زندگی ، ہماری یہ دنیا اپنے اختتام پر ہے۔ اِس کا مکمّل انحصار خاموشی پر ہے۔ اُس وقت کے سیاستدانوں میں دو قسم کے نظریات تھے۔ ایک کو میں داغدار اسکول کہا کرتا تھا اِس لیے بھی کہ اُن کی سیاسی تشہیر کا اختتام ہمیشہ مخالفین کی بے عزّتی پر ہوا کرتا تھا۔ دوسرا نظریہ جو بہت زیادہ خطرناک اور باعزت بھی تھا ،اُسے میں خاموش قتل کا طریقۂ کار کہا کرتا تھا۔ یہ پراسرار حالات میں خاموشی کے ساتھ اپنے مخالفین کا صفایا کیا کرتے تھے۔ اِس طرح سے کئی سوالات بغیر جواب کے ختم ہوجایا کرتے تھے۔ بے شمار کہانیوں کا کمزور اختتام ہوجایا کرتا تھا اور کئی راز بغیر وضاحت کے رہ جاتے تھے۔ وہ اس طرح کے حالات پیدا کردیتے تھے کہ قتل ایک راز بن کر رہ جاتا اور یقین کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہو جاتا تھا۔ میں اپنے آپ کو اُس دور کا تخلیق کار سمجھتا تھا۔میں نے اپنی سیاسی تعلیم کے کچھ سال ترانو کی نگرانی میں گذارے جو خاموش سیاست کا ایک اہم لیڈر تھا۔مغولی اور میں اُس کے لیے کام کیا کرتے تھے۔ ہم فسطائیت پسندوں کو نیست نابود کرنے کا کام کرتے تھے اور مزدوروں اور باغیوں پر ہونے والے مظالم کو شمار کیا کرتے تھے۔ پارٹی میں ترانو کے کچھ مخالفین کے مفقودالخبر ہونے کے پیچھے بھی ہمارا ہی ہاتھ تھا۔ ہم نے ترانو کے لیے دوسری سیاسی جماعتوں کے بیشمار لیڈران کو قتل کیا تھا اور یہ پورا کام ہم نے مکمّل خاموشی میں کیا۔
قومی جدوجہد میں کئی سال گذارنے کے باوجود بھی ترانو کی ٹیلر کی دکان تھی۔ وہ کسی معصوم کی طرح اپنی سلائی مشین پر جھکا ہوتا۔ اُس کی آنکھوں کی کمزور روشنی دیکھ کراُس کے مہمان، گاہک اور وہاں سے گذرنے والے اُس پر ترس کھاتے اُس سے ہمدردی ظاہر کرتے۔ وہ اتنا کمزور اور ناتواں انسان تھا کہ کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ اِس خونی اور پیچیدہ آپریشن کے پیچھے اِس کمزور مخلوق کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ دبلا پتلا اور بیمار نظر آتا تھا۔ اگر تم کبھی اُسے دیکھو تب تمھارا دل بھی اُس کے لیے رونے لگ جائے گا اور تم خود بھی افسوس کرو گے کہ یہ کتنا بدنصیب شخص ہے۔ اپنی رذیل اور ذلیل قسمت ہی کی وجہ سے وہ بہت ہی مشکل دنوں میں بھی جاسوسوں کی نظروں سے محفوظ رہا۔
مجھے یہ کہنا چاہیے کہ ہمارے رہنما اور استاد صابر ترانو بھی مغولی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ جعفری مغولی کا قتل کرنے کا اپنا ایک الگ ہی انداز تھا۔ وہ اپنے شکار کے بالکل قریب چلا جاتا وہ اُن سے باتیں کرتا اُن کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا پھر اُس کے بعد اُن پر بندوق تان دیا کرتا اور انہیں قتل کردیتا تھا۔ وہ اپنی بندوق ہمیشہ اپنی جیب میں رکھا کرتا تھا۔ اُ س کے علاوہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا تھا جو ہمیشہ اپنی بندوق اپنی جیب میں رکھتا ہو۔ وہ اپنے شکار کے قریب پہنچنے کا بہانہ ڈھونڈتا اور بالکل قریب سے انہیںپیٹ میں گولی ماردیا کرتا تھا۔ جیسے ہی اُس کا شکار زمین پر گرتا اور چیخنے چلّانے کے لیے اپنا منہ کھولتا تب وہ دوسری گولی اُس کے منہ میں داغ دیا کرتا۔ مغولی کا انداز مجھ سے بالکل مختلف تھا۔ میں اپنے طاقتور اور کبھی نہ لرزنے والے ہاتھوں سے نشانہ لیا کرتا تھا اور پندرہ بیس میٹر دور سے اپنے شکار کے سینے میں گولی مارا کرتا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی اپنے کسی شکار پر سینے کے علاوہ کہیں اور گولی چلائی ہو۔ میرا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوا۔
قتل کا فن یہ نہیں کہ شکار کے کسی بھی نظر آنے والے حصّے پر گولی مار دی جائے۔ یہ تو ایک بزدل اور نہ اہل قاتل کی علامت ہے۔ قتل یعنی اپنے شکار کو سینے میں مارنا اور سینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
مغولی اور میرے اندازِ قتل کے علاوہ بھی کئی لوگ تھے۔ مثال کے طور پر شِبر جو صرف اور صرف پیشانی پر نشانہ لگایا کرتا تھا۔ وہ لوگ جو ستّر کی دہائی کے اخیر میں اور نوّے کی دہائی کے وسط میں پیشانی پر گولی مارے جانے کی وجہ سے قتل ہوئے وہ سب کے سب ہی شِبر مصطفی کے شکار بنے تھے۔ تقسیم اپنے شکار پر سیدھے سر سے پیر کے انگوٹھے کی جانب گولی چلایا کرتا تھا۔ بیزنگ یا سی ایو اپنے شکار کوپچاس سے کم گولیوں کی سزائیں کبھی نہیں دیتا تھا اور انہیں چھلنی کردیا کرتا تھا۔ فرائے تُنچی پیچھے سے گولی مارا کرتا تھا۔ عام طور پر وہ اپنے شکار کی گردن کے منکے پر یا شانوں پر گولیاں مارا کرتا تھا۔
تقریباً ہم پچاس لوگ اِس میدان میں کام کر رہے تھے۔ ہمارا کام ہی ایک دوسرے کو صاف کرنا تھا ،چاہے وہ پارٹی کا مخالف ہو یا ملک کا دشمن۔ ہم میں سے ہر ایک کا اپنا ایک الگ راستہ تھا ۔ ہم ایک بااختیار کیڈر کے خاص مقصد کے لیے کام کر رہے تھے۔ مغولی اور میں اکثر ایک ساتھ کام کیا کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ چمڑے کے بڑے دستانے پہنا کرتا تھا۔ اُس کا دھمکی آمیز اظہار اس کی نرم نازک اور خوشگوار آواز کے برعکس ہوا کرتا تھا۔ یہی چیز اُسے اپنے دشمن کے قریب لے جاتی تھی اور وہ اُن سے باتیں بھی کیا کرتا تھا۔ جب کبھی تم اس کی نرم اور موسیقی سے پُر آواز سنو گے تب تمھارے تمام شکوک و شبہات دور ہوجائیں گے اور تم بھی دوبارہ اُس پر یقین کر لو گے۔ کبھی کبھی وہ بالکل خاموش ہوجاتا اور جب کبھی میںاُس کی طرف دیکھتا تب مجھے بھی یقین نہیں ہوتا کہ سوجے ہوئے چہرے، ابلتی ہوئی آنکھیں اور ٹیڑھے ہونٹوں سے اتنی سحر انگیز آواز نکلتی ہوگی۔
ہم یکے بعد دیگرے اپنے شکار کو قتل کیا کرتے تھے۔ میں تمام قاتلوں میں سب سے تیز تھا۔ جیسے ہی میرا شکار نمودار ہوتا میں فوراً(چاہے پھر وہ مرد ہو یا عورت)اُس کے سینے کو دیکھتا اور وقت برباد کیے بغیر پلک جھپکتے ہی اپنا کام پورا کر جاتا۔ میری یاداشت اچھی ہے اور مجھے یہ یاد نہیں آتا کہ کبھی میںاپنے شکار کو دیکھ کر چونکا ہوں یا انہیں کبھی کسی قسم کا شبہ ہونے دیا ہوں۔میرے نزدیک سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ ہم اپنے شکار کو موت کے تعلق سے سوچنے کی اجازت دے دیں۔ ان مختصر سانسوں(لمحات) میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ نہ سیاست ، نہ نفرت اور نہ ہی بدلے کے جذبات۔صرف ایک ہی چیز شکار سے جوڑے رکھتی ہے اور وہ ہے موت۔میرے لیے سب سے اہم بات یہی ہوتی تھی کہ شکار خوفزدہ ہوئے بغیر مر جائے۔ موت اور موت کے یقین کے درمیان اُسے بالکل بھی وقفہ نہ ملے۔ مغولی مجھ سے مختلف تھا وہ تیتر اور انسان مارنے میں کوئی فرق نہیں کرتا تھا۔اس کا خیال تھا جس طرح تیتر اپنی موت پر دوستوں کو یاد کرتے ہیں اِسی طرح ایک پرلطف گیت کے ساتھ ہمیں بھی اپنے شکار کوموت تک لانا چاہیے اور جب دونوں جانب یہ پتہ چل جائے کہ ایک ایسے طوفان کا سامنا ہے جس میں ایک جانب قاتلوں کا مکمل اختیار ہے اور دوسری جانب شکار ہے تب دونوں اپنی قسمت کو مکمل طور پر قبول کر لیتے ہیں اور وہ اِس کھیل کا اختتام ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔
بغاوت کے ایک سال بعد تک میں قتل و غارت گری کے محکمے کا ایک ممبر تھا۔ ایک روز انھوں نے ہمیں عورتوں کی ایک لمبی لسٹ تھما دی ۔ جنھیں ہمیں یکے بعد دیگرے اٹھانا(قتل کرنا) تھا۔ میں نے ابھی تک کسی عورت کا قتل نہیں کیا تھا۔ ایک شام انھوں نے مجھے ایک خوبصورت عورت کو قتل کرنے کے لیے بھیجا جو اپنے بالکل نوجوان شوہر کے ساتھ ایک غلیظ گھر میں رہتی تھی۔ پارٹی میں کئی سال کے تجربات نے مجھے یہ سکھا دیا تھا کہ میں اپنے شکار کے بارے میں زیادہ جاننے کی کوشش نہ کروں۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ میں پرتجسس نہیں تھا لیکن تجربات نے مجھے یہ سکھادیا تھا کہ شکار کے بارے میں جاننے سے صرف سر درد ہی ہوتا ہے۔ شکار کے تعلق سے بہت زیادہ معلومات ہاتھوں میں کپکپی طاری کردیتی ہے۔ ہچکچانے پر مجبور کردیتی ہے اور پھر ہم اپنا شکار نہیں کرپاتے۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں اسے قتل نہیں کروں گا تب بھی مغولی ، تُنچی یا فاضل قندیل میں سے کوئی ایک یہ کام کردے گا۔ ہمارے پاس ایسے کئی لوگ تھے جو کہانیوں کی گہرائی تک جانا چاہتے تھے، وہ قتل و غارت گری کی وجوہات جاننا چاہتے تھے۔ وہ خود فیصلہ کر کے احساسِ جرم سے پرے قتل کرنا چاہتے تھے۔ اُن میں سے بہت سارے لوگوں نے تاریک راتوں میں دوغلے اور مشتبہ حادثات میں اپنی جانیں گنوا دی تھیں۔ اگر کسی روز تم قاتل بن جائو تب اپنے شکار کے تعلق سے زیادہ معلومات لینے کی کوشش نہ کرو۔ شکار کے تعلق سے زائد معلومات کام کو مشکل بنا دیتی ہے اور اِس کے نتائج اور بھی بھیانک ہوتے ہیں۔
ایک دن میں اُس خوبصورت خاتون کو قتل کرنے کے لیے گیا۔ میرا پورا جسم اس طرح کانپ رہا تھاجیسے میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کا قتل نہ کیا ہو۔میں نے اسے غور سے دیکھا، وہ ایک لمبی رعب دار اور خوبصورت خاتون تھی۔ جب میں نے اُس کے گھر میں قدم رکھاتب وہ نائلون کی رسّی پر دھلے ہوئے کپڑے لٹکا رہی تھی۔ اُس نے پتلا کرُد ڈریس پہنا ہوا تھا۔ میں آسانی کے ساتھ اُس کے نیچے چھپی ہوئی کالی پٹی دیکھ سکتا تھا۔ میں اپنی زندگی میںکبھی عملی طورپر کسی عورت کے خیال میں محو نہیں ہوا تھا۔اگرچہ اس طرح کسی خاتون کو مارنا مجھے مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا بچہ اپنے ہاتھوں میں خالی پیالہ لیے سیڑھیوں پر بیٹھا رو رہا ہے۔ جیسے ہی میں نے اپنی پستول باہر نکالی اور اُس پر نشانہ لگایا تب چراغ بجھنے یا دل دھڑکنے سے بھی مختصر لمحے کے لیے اپنی زندگی میں پہلی بار میں ہچکچایا ۔ میں اپنی پستول نیچے کر کے پارٹی کے حکم کی تعمیل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ شاید میں اُسے قتل نہ بھی کرتا لیکن بدقسمتی سے اُس کا شوہر کمرے سے باہر آگیا اور اُس نے میرے ہاتھوں میں پستول دیکھ لی۔ اُس آدمی کا خوفزدہ وجود، گلے میں پھنسی ہوئی چیخ اور چہرے پر بکھری ہوئی وحشت نے میری کمزوری کو باہر نکال دیا ۔میں نے فوراًٹریگر دبایا اور اُس خوبصورت عورت کے دل میں گولی اتار دی۔خون کے چھینٹے چاروں طرف پھیل گئے۔ اگرچہ کہ میں دس میٹر کی دوری پر تھا، میں بھی شرابور ہو گیا۔ عورت نیچے گر گئی اور میں حیرت و یاس کی تصویر بنا اسی جگہ منجمد ہو گیا۔
اس دن سے پہلے کبھی مجھ پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا تھا۔ مغولی ہمیشہ اپنے آپ کو خون میں رنگ دیا کرتا تھا۔ وہ اپنے رومال کو خون میں بھگو کر بطور یادگار اپنے پاس رکھا کرتا تھا۔ لیکن میں ہمیشہ اپنے شکار سے اتنا فاصلہ بنائے رکھتا تھا کہ خون کے چھینٹے مجھ تک اڑنے نہ پائیں۔ میں فوراًوہ جگہ چھوڑدیا کرتا تھا۔ آندھی کی طرح فرار ہو کر غائب ہوجاتا تھا۔ میں اتنا تیز دوڑتا تھا کہ مجھے طوفان کہا جاتا تھا۔ لیکن اُس دن یوں لگتا تھا جیسے میں کسی سحر کی گرفت میں ہوں اور کسی نے میرے پیر پکڑلیے ہیں۔ میں بہت دیر تک وہاں سے ہلا بھی نہیں۔ گولیوں کی آواز بہرہ کردینے کی حد تک تیز تھی۔ بارود کی بُو سے پورا احاطہ بھر چکا تھا۔ میں نے اُس کے شوہر کو دیکھا جو روتے ہوئے میری جانب بڑھ رہا تھا۔ میں نے سیڑھیوں کے پاس اسے چیختے ہوئے دیکھا۔ دھیرے دھیرے میں اُس عورت کے قریب گیا۔ وہ اپنے ہی خون میں تر تھی اور اپنی آخری سانسیں گن رہی تھی۔ میں نے اس کی بڑی ہری ہری آنکھیں دیکھیں۔ اس کی خالی اور بے سوال نگاہیں مجھ پر مرکوز تھیں۔ خون میں شرابور میں وہاں سے نکل گیا۔ گیٹ کے باہر میں نے مغولی کو دیکھا ۔ جب اُس نے مجھے دوسری جانب کھینچا تب میں چیخ رہا تھا۔
وہ میرا پارٹی کے لیے کام کرنے کا آخری دن تھا۔ اسی شام میں نے ہر چیز چھوڑدی اور یہ کھیل کھیلنا بند کردیا۔ میرے جانے کے بعد مغولی، تُنچی، دنسازاور حاجی کوتر نے ہر کام کیا۔ ایک سال سے کم وقفے میں انھوں نے پورے ملک میں بیشمار عورتوں کو قتل کیا۔ یہ جعفری مغولی سے میری پہلی جدائی تھی۔ اُس کے بعد میں نے تیرہ سالوں تک اُسے نہیں دیکھا۔لیکن جب میں نے اُسے دوبارہ دیکھا تب میں نے محسوس کیا کہ دنیا مکمل طور پر بدل چکی ہے، وقت اپنی گردش پر لوٹ چکا ہے لیکن مغولی میں ذرّہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔

٭٭٭

معروف کرد فکشن نگار بختیار علی کا افسانہ ’جعفر مغولی اور حسن طوفان کی شروعات‘ کا ترجمہ معروف مترجم ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے اردو چینل کے لیے انگریزی سے اردو میں کیا تھا۔ یہ ترجمہ رسالہ اردو چینل کے شمارہ نمبر ۳۳ میں شامل ہے۔